ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل: سیاحتی مقام مرڈیشور سمندر میں ڈوبنے والے سیاحوں کو بچانے سکیورٹی عملے کے پاس نہیں ہے حفاظتی اشیاء

بھٹکل: سیاحتی مقام مرڈیشور سمندر میں ڈوبنے والے سیاحوں کو بچانے سکیورٹی عملے کے پاس نہیں ہے حفاظتی اشیاء

Sun, 12 Jun 2022 20:55:29    S.O. News Service

بھٹکل:12؍ جون (ایس اؤ نیوز)ملک بھر میں سیاحت کے لئے مشہور، مرڈیشور بیچ، جہاں ہزاروں سیاح تفریح کے لئے پہنچتے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں سیاحوں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچانے کے لئے عملہ کے پاس مناسب اشیاء ہی نہیں ہے۔

خوبصورت اور دل کو لبھا کر اپنی طرف کھینچنے والے بحر عرب کی گہرائی کا اندازہ لگائے بغیر سیاح جب سمندر کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں اور تالاب اور ندی نالوں میں تیرنے کی مہارت رکھنے والے بھی جب سمندری موجوں کے درمیان تیرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ اونچی اٹھتی سمندری لہروں کی زد میں آکر غرق ہونے لگتے ہیں تو ساحل پر تعینات سکیورٹی عملہ جن میں زیادہ تر عملہ سمندر میں تیرنے کی مہارت رکھتے ہیں، اپنی حد تک انہیں بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں وہ کئی لوگوں کو بچانے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں، لیکن کئی لوگوں کو بچانے میں وہ ناکام بھی ہوجاتے پیں۔ اس ضمن میں لوگوں کی بات مانیں تو حفاظتی عملہ کو محکمہ سیاحت کی جانب سے ضروری اشیاء ہی فراہم نہیں کی گئی ہے اگر مناسب چیزیں انہیں مہیا کی جائیں تو کئی جانوں کو بچاسکتے ہیں۔

سیاح ہر موسم میں سیاحت کے لئے مرڈیشور   آتے ہیں، یہاں جو بھی آتےہیں وہ سمندر میں اترے بغیر واپس نہیں جاتے ، چٹیل اور خشک، ملناڈ علاقوں کےلوگ سمندر کو دیکھتے ہی سب کچھ بھول جاتےہیں اور سمندر کی گہرائی سےانجان پانی میں کھیلنے کے لئے اتر جاتے ہیں ان میں سےکئی لوگ موت کا شکار ہوجاتےہیں۔ 2021میں پانچ اور امسال 2022میں اب تک تین لوگ سمندر میں غرق ہوکر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

مرڈیشور کے ساحل پر آبی کھیل ، اسکوبا ڈائیونگ جیسی سرگرمیوں کو منظوری دی گئی ہےجس کے نتیجےمیں محکمہ سیاحت کو اچھی خاصی آمدنی بھی ہورہی ہے۔ لیکن محکمہ سیاحت کی جانب سے سیاحوں کی حفاظت کےلئے مناسب انتظام نہیں کیا گیا ہے مقامی لوگوں کا کہناہے کہ ساحل پرسیاحوں کی نگرانی کےلئے صرف ایک ٹاور ہے لیکن وہ بھی خستہ حالت میں ہے۔

مرڈیشور کے ایک مقامی شخص نے بتایا کہ محکمہ سیاحت کی جانب سےمرڈیشور کے ساحل پرسیاحو ں کے لئے  کوئی سہولیات فراہم نہیں کی گئی  ہیں۔ یہاں کے سکیورٹی عملے کے پاس بارش کے موسم میں سمندر میں ڈوبنے والوں کو بچانے کے لئے کوئی حفاظتی اشیاء نہیں ہیں۔ ساحل پر سیاحوں کو بچانے کےلئے سکیورٹی عملہ ضرورہے لیکن ان کے پاس جٹ بوٹ، اے ٹی وی بائک، حفاظتی ٹیوب، جاکٹ ، میگا فون سمیت ضروری اشیاء نہیں ہیں۔ سکیورٹی عملے کا کہنا ہے کہ سیاحوں کو غرق ہونے سے بچانے کے لئے  یہ سب حفاظتی اشیاء بے حد ضروری ہیں۔

سیاحوں کی غفلت: بارش کے موسم میں تین مہینوں تک مرڈیشور کے ساحل پر سمندر میں اترنےکی پابندی لگائی گئی ہے۔ لیکن سیاح ان  سب کو نظر انداز کرتےہوئے سمندر میں اترکر اپنی جان گنوا بیٹھتےہیں۔ دوسری طرف ماولی گرام پنچایت کی جانب سے ساحل پر باکڑا لگانے کی منظوری دی گئی ہے۔سیاحوں کا سمندر میں اترنے کی یہ بھی ایک وجہ بتائی جارہی ہے۔ عوامی سطح پر مطالبہ کیا جارہاہےکہ کم سے کم تین مہینوں تک ساحل کنارے باکڑوں اور اور تفریح پر مکمل پابندی لگائی جانی چاہئے۔

اقدامات اٹھائے جائیں گے :محکمہ سیاحت کے نائب ڈائرکٹر جینت نے بتایا کہ بارش کے موسم میں سیاحوں کو سمندر میں اترنے سے روکنے کے لئے ضروری اقدامات کئےجارہےہیں۔ اور 15دن پہلے ہی پولس محکمہ کو خط بھی لکھا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی عملے کو حفاظتی اشیاء آبی کھیل کی نگراں کمپنی مہیا کرتی تھی اب اس معاملے میں کچھ مسائل پیدا ہوئے ہیں انہوں نے یقین دلایا کہ اس تعلق سے بھی ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔


Share: